ملک کی سیاسی صورتحال کسی کیلئے بھی ناسازگار: نین تارہ سہگل

موجودہ سیاسی صورتحال کو کسی کے لئے بھی ’ناسازگار‘ قراردیتے ہوئے بزرگ ادیبہ نین تارہ سہگل نے ’ہندوتوا‘ کے خیال کو مستردکردینے کا مطالبہ کیا جو تشدد برپاکررہا ہے اور جس کا ہندو دھرم سے کوئی لینادینا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ فی الحال صورتحال بالکل مختلف ہے۔ موجودہ سیاسی صورتحال میں مخصوص طاقتیں ہرطرح کا اختلاف رائے ختم کردینے کی کوشش کررہی ہیں۔ اتفاق نہ کرنے والوں کو ہلاک کیاجارہا ہے۔ایسی آخری شخصیت گوری لنکیش کی تھی۔ ادیبہ نے آئی اے این ایس سے کہا کہ نہ صرف قلمکاروں بلکہ مویشی لے جانے والوں کو ہلاک کیاجارہا ہے۔ بیف رکھنے کے شبہ میں لوگ مارڈالے جارہے ہیں۔ نین تارہ سہگل نے ہفتہ کی شام اپیجے کولکتہ لٹریری فیسٹول 2018 کے حاشیہ پر کہا کہ مسئلہ کا حل ہندوتوا کو مستردکردینا ہے۔ یہ تشدد برپاکررہا ہے۔ یہ خطرناک نظریہ ہے اور اس کا ہندو دھرم سے کوئی لینادینا نہیں۔ کئی قلمکار اس آئیڈیالوجی کے خلاف آوازاٹھارہے ہیں اور لکھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندو دھرم، دہشت گرد نہیں ہے اور وہ تشدد کی وکالت نہیں کرتا۔ موجودہ سیاسی صورتحال نہ صرف قلمکاروں بلکہ کسی کے لئے بھی سازگار نہیں۔ جو لوگ پسند نہیں آتے ان کے خلاف کیسس درج ہورہے ہیں۔ ظلم وزیادتی اور قتل ہورہے ہیں۔ یہ شیطانی سیاسی ماحول ہے۔ مشہور ادیبہ نے کہا کہ ہندوستان نے آزادی کے وقت جمہوریت کو ترقی پر فوقیت دینے اور سیکولر رہنے کا فیصلہ کیا۔ یہ فخر کی بات ہے۔

About Sub Editor