مغربی بنگال میں اردو میڈیم اسکولوں میں اساتذہ کی شدید قلت، کئی اسکول بند ہونے کے قریب

کلکتہ۔ مغربی بنگال میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہونے کے سات سال مکمل ہونے کے بعد بھی ریاست کے اردو میڈیم سیکنڈری، ہائی سیکنڈری اسکولوں میں اساتذہ کی شدید قلت کا مسئلہ حل نہیں ہونے کی وجہ سے بحرانی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔

تعلیمی معیار میں گراوٹ آنے کے ساتھ ہی کئی اسکولوں میں سائنس و کامرس کے سبجیکٹ کی تعلیم بند ہوگئی ہے اور جہاں اب تک باقی ہے وہاں کئی اہم سبجیکٹ کے اساتذہ نہیں ہیں ۔

اس صورت حال میں اردو میڈیم اسکولوں میں زیر تعلیم طلبا ء کا مستقبل تاریک ہوتا ہوا نظرآرہا ہے اور وہ اب اپنے مستقبل کے پیش نظر دوسرے میڈیم کے اسکولوں میں داخلہ کرانے پر مجبور ہیں ۔

بنگال اردو اکیڈمی کے سالانہ اردو کتاب میلہ میں شرکت کیلئے آئے مختلف اردو میڈیم اسکولوں کے اساتذہ نے شدت کے ساتھ اس مسئلے کو اٹھا یا اور کہا کہ اگر اردو میڈیم اسکولوں میں اساتذہ کی قلت کا مسئلہ ترجیحی بنیاد پر حل نہیں کیا گیا تو آئند ہ چند سالوں میں اردو اسکول اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکیں گے اور بیشتر اسکول اساتذہ کے نہیں ہونے کی وجہ سے بند ہوسکتے ہیں ۔

خیال رہے کہ 2011میں ممتا بنرجی کے اقتدار میں آنے کے بعد اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیدیا گیا اور اس کیلئے اسمبلی میں لنگویج ایکٹ میں تبدیلی کرکے قانونی درجہ دیدیا گیا ۔اس حق کو حاصل کرنے کیلئے اردو برادری کو تین دہائیوں تک جدوجہد کرنا پڑا تھا۔ آل بنگال اردو میڈیم اسکول ایسوسی ایشن نے ستمبر 2016میں ریاست کے سرکاری سیکنڈری و ہائی سیکنڈری اسکولوں کا سروے کرکے ایک رپورٹ جاری کی تھی۔

About Sub Editor