مدھیہ پردیش میں 5 سادھووں کو مملکتی وزیر کا موقف

مملکتی وزیر کا موقف حاصل ہونے کے ایک دن بعد دو مذہبی قائدین نے حکومت ِ مدھیہ پردیش کے نرمدا کے تحفظ پروگرام میں مبینہ گھوٹالہ کے خلاف اپنی مجوزہ مہم کو منسوخ کردیا ہے۔ واضح رہے کہ مدھیہ پردیش میں جاریہ سال کے اواخر میں اسمبلی انتخابات مقرر ہیں ، جس سے پہلے کل ریاست کی بی جے پی حکومت نے پانچ ہندو مذہبی رہنماؤں نرمدانند مہاراج ، ہری ہرانند مہاراج، کمپیوٹر بابا ، بھیو مہاراج اور پنڈت یوگیندر مہنت کو مملکتی وزیر کا موقف عطا کیا ہے۔ 31 مارچ کو پانچ مذہبی رہنماؤں کو نرمدا کے تحفظ کے لیے بنائی گئی ایک کمیٹی کا رکن مقرر کیا گیا تھا۔ کمیٹی کے ارکان کی حیثیت سے انہیں مملکتی وزیر کا موقف دیا گیا ہے۔ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ کے ایک عہدیدار نے یہ بات بتائی ۔ قبل ازیں کمپیوٹر بابا نے اعلان کیا تھا کہ وہ یکم اپریل تا 15 مئی مدھیہ پردیش کے ہر ضلع میں یوگیندر مہنت کے ساتھ ’’نرمدا گھوٹالہ رتھ یاترا‘‘ نکالیںگے ، تاکہ دریائے نرمدا کے کناروں پر شجرکاری میں مبینہ گھوٹالہ کو بے نقاب کیا جاسکے اور غیرقانونی ریت کی نکاسی پر امتناع کا مطالبہ کیا جاسکے۔ اس مہم کا تشہیری مواد سوشل میڈیا پر بڑے پیمانہ پر گشت کرایا گیا تھا۔ بہرحال مملکتی وزیر کمپیوٹر بابا نے آج کہا کہ انہوں نے اپنی مہم منسوخ کردی ہے ، کیوںکہ ریاستی حکومت نے دریائے نرمدا کے تحفظ کے لیے سادھووں اور سنتوں پر مشتمل کمیٹی تشکیل دینے ان کے مطالبہ کو پورا کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب ہم کیوں یاترا نکالیںگے۔ سادھو ہونے کے باوجود مملکتی وزیر کو حاصل ہونے والی سرکاری سہولتوں کو قبول کرنے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اگر ہمیں یہ عہدہ اور دیگر سرکاری سہولتیں حاصل نہ ہوں تو ہم نرمدا کے تحفظ کے لیے کس طرح کام کرسکتے ہیں۔ کمیٹی کے رکن کی حیثیت سے ہمیں ضلع کلکٹرس سے بات چیت کرنی ہوگی اور دیگر ضروری انتظامات کا جائزہ لینا ہوگا۔ ان امور کی تکمیل کے لیے سرکاری موقف درکار ہے ۔ یوگیندر مہنت نے جو مجوزہ مہم کے کنوینر تھے ، یہ بھی کہا کہ انہوں نے یہ یاترا منسوخ کردی ہے ، کیوںکہ حکومت نے دریا کے تحفظ کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے ۔

About Sub Editor