سعودی عرب کو مکہ اور مدینہ کا سیاسی استعمال نہ کرنے دیں گے

غالب اکیڈیمی میں تنظیم علماء اور اسلام کے زیر اہتمام ایک روزہ کانفرنس کا انعقاد ‘ کثیرتعدادمیں لوگوں نے شرکت کی
نئی دہلی۔گذشتہ کئی ماہ سے اندرونی خلفشار سے دوچار حکومت سعودی عرب پر ہندوستان میں قائم تنظیم علمائے اسلام نے وہاں کے دوعظیم ترین شہروں مکہ مکرمہ او رمدینہ منور ہ کے ساسی استعمال کا الزام لگاتے ہوئے کہاکہ ہے کہ اسے ایسا نہیں کرنا چاہئے۔

عالم یہ ہے کہ مسلکی مفاد کے لئے ان دنوں مقدس مقامات کے نام پر پور ی دمیا کے مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جو اب کسی بھی حالت میں برداشت نہیں کیاجائے گا۔ ایک روزہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مفتی اشفاق حسین قادری نے کہاکہ جب سے آل سعود نے اس ملک پرقبضہ کیا ہے تب سے یہاں حج اور مذہبی رسم رواج کو اسلامی نظریے سے نہ صرف ادا کرنا مشکل ہوگیا ہے بلکہ مکہ اور مدینہ سمیت سبھی مذہبی مقامات کا سعودی عرب کی حکومت اسی استعمال کررہی ہے۔مفتی اشفاق نے ہندوستان کے مسلم نوجوانوں سے اپیل کہ وہ سعودی عرب کی مذہبی مقامات کے سیاسی استعمال پر تنقید کریں۔
انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ حاجیوں کے ساتھ حج کے دوران زیادتی ہوتی ہے اور متوع جیسی تنظیم کا قیام کرکے حاجیوں کے ساتھ غیر شائستہ سلوک کیاجارہا ہے۔شاہد پردھان نے کہاکہ سعودی عرب کی حکومت کو سیاسی ہتھیار سمجھ رہی ہے اور کھل کر اس کا غلط استعمال کررہی ہے ۔

انہو ں نے کہاکہ کئی ممال میں مسلم عوام کے جذبات سے سعودی عرب کی حکومت کھیلتی بھی ہے اور انہیں بھڑکانے کے لئے بھی مقدس مقامات کے نام پر سیاست کرتی ہے ۔ اس موقع پر اعلی حضرت یوتھ برگیڈ کے صدر مولانا افتخار رضوی‘ تسلیم رضا‘ قاری صغیر انصاری‘ مولانا اسرار الحق رضوی‘ مولانا عبدالوحید اور مفتی اقبال احمد اور قاری میاں مظہری سمیت سینکڑوں مذہبی رہنماؤں اور عوام نے شرکت کی۔

About Sub Editor