دہشت گردی کے تائیدی ممالک سے نمٹنا ضروری : جنرل راوت

دہشت گردی کے تائیدی ممالک سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔ دنیا جب تک اس کے خاتمہ کے لئے متحد نہ ہو دہشت گردی برقرار رہے گی۔ فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت نے چہارشنبہ کے دن یہ بات کہی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دہشت گردی کے شکار ملک کو اپنی جنگ خود لڑنی ہوگی۔ نئی دہلی میں رائے سینا ڈائیلاگ میں جنرل راوت نے دہشت گرد فنڈنگ روکنے پر زور دیا۔ انہوں نے تشویش ظاہر کی کہ نیوکلیر ‘ حیاتیاتی اور کیمیائی ہتھیار اگر دہشت گردوں کے ہاتھ لگ گئے تو کیا ہوگا۔ انہوںنے دہشت گرد پروپگنڈہ کی روک تھام کے لئے انٹرنیٹ پر بندشوں کی وکالت کی۔ فوج کے سربراہ نے کہا کہ دہشت گردی کو جنگ کی نئی شکل کے طورپر قبول نہیں کیا جاسکتا۔ انہوںنے عالمی برادری سے کہا کہ وہ اس سے سیدھے سیدھے نمٹے۔ پاکستان کا نام لئے بغیر جس پر ہندوستان ‘ جموں و کشمیرکے دہشت گرد گروپس کی مدد کا الزام عائد کرتارہتا ہے‘ انہوںنے کہا کہ اپنے مقاصد کی تکمیل کے لئے دہشت گردی کی تائید کرنے والے ممالک سے پہلے نمٹنے کی ضرورت ہے۔ پوری عالمی برادری جب تک متحد نہ ہو دہشت گردی برقرار رہے گی۔ دہشت گردی کی برائی کے خلاف متحدہ لڑائی کے بعد ہی امن قائم ہوگا۔ دہشت گردی ‘ جنگ کی نئی شکل نہیں ہوسکتی۔ انہوں نے کہا کہ ایک ملک دوسرے ملک کے لئے جنگ نہیں لڑے گا۔ آپ کو اپنا کام خود کرنا ہوگا۔کوئی ملک آپ کی مدد کو آنے والا نہیں۔ جنرل راوت نے کہا کہ فنڈس کے ذرائع کا پتہ چلاناہوگا کیونکہ تمام دہشت گرد تنظیموں کے پاس بھاری رقومات موجود ہیں۔ انہوںنے نشاندہی کی کہ منشیات کی تجارت ایسی فنڈنگ کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔تمام ہتھیار بنانے والوں کو چاہئے کہ وہ ہر ہتھیار پر مارکنگ کریں تاکہ دہشت گردوں کے پاس پائے جانے والے ہتھیار کہاںسے آرہے ہیں اس کا پتہ چل سکے۔ جنرل راوت نے کہا کہ دہشت گردوں کے ہاتھوں میں عصری اسلحہ پہنچ رہا ہے لیکن یہ پتہ چلانا مشکل ہے کہ انہیں یہ ہتھیار کہاں سے مل رہے ہیں۔

About Sub Editor