دہشت گردی ، تمام تخریب پسندیوں کی ماں : سشما سوراج

رائسینا مذاکرات میں حصہ لیتے ہوئے وزیر خارجہ سشما سوراج نے کہا انتہاپسندی کے خیالات رکھنے سے خلل اندازی کے رجحانات میں اضافہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا دہشت گردی تمام تخریب پسندیوں کی ماں ہے۔ وزارتِ امورِ خارجہ اور آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن کی جانب سے منعقد کردہ ان مذاکرات میں اپنے افتتاحی خطاب میں انہوں نے کہا آج دنیا کو بین الاقوامی نظم و ضبط پر عمل اور اقدار کے بارے میں مباحث کرنے اور وضاحت کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ سب سے زیادہ اہم ہے۔ اس سال رائسینا مذاکرات کا موضوع ’’خلل انداز رجحانات سے نمٹنا‘‘ مقرر کیا گیا تھا۔ اس بات پر غور کرتے ہوئے کہ قدیم آزادی کے نظم کے بارے میں سوالیہ نشانات ہیں ، سشما سوراج نے کہا مؤثر بین الاقوامی تعلقات اور مزید مؤثر عالمی معیشت کے لیے بڑا مشترکہ میدان پانا چیلنج ہے۔ دہشت گردی آج ناقابل تردید طور پر تمام خلل اندازیوں کی ماں ہے۔ پچھلے چند دہوں میں اس جانب ہمارا رویہ مبذول ہوا ہے۔ انہوں نے کہا ایک وقت تھا جب کہ دہشت گردی کو دیگر عوام کے مسئلہ یا نظم و ضبط کی صورتِ حال کے طور پر دیکھا جاتا تھا اور اسے ایک آلہ کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا تھا ، لیکن وہ وقت گذر چکا ہے۔ ہم تمام اب یہ بڑی صراحت سے کہتے ہیں کہ جہاں کہیں دہشت گردی ہے ، اس سے سوسائٹیوں کو خطرہ ہے۔ اس ڈیجیٹل دور میں یہ چیلنج مزید سنگین بھی ہے ، جب کہ انتہا پسندی کا بڑا رجحان پایا جاتا ہے۔ اس طرز میں کمک رکھنے والی آئی ایس کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا جہاں وہ کوئی بنیاد نہیں رکھتی وہیں سب سے زیادہ خطرناک وہ دہشت گردی ہے ، جو حکمرانی کی جگہوں سے ابھرتی ہے۔ درحقیقت دہشت گردی کی مملکتوں کی جانب سے سرگرمی سے تائید اور سرپرستی کی جاتی ہے۔ انہوںنے کہا کہ دہشت گردی کا منبع رکھنے والوں اور اس پر عمل پیرا ہونے والوں کو بخشا نہیں جائے گا ۔ تحمل کا تیقن دینا آج کی پکار ہے۔ سشما سوراج نے پاکستان کا نام لیے بغیر کہا یہ پیغام خاص طور پر ان لوگوں کے لیے ہے جو اس بات پر ایقان جاری رکھتے ہیں کہ یہ سہولت پسندی کا آلہ ہوسکتا ہے۔ اجتماعی تباہی کے ہتھیاروں (ڈبلیو ایم ڈی) کے پھیلاؤ کا خطرہ ایک اور خلل انداز عصر ہے۔ ان ہتھیاروں خاص طور پر نیوکلیر ہتھیاروں کے حقیقی استعمال کی تائید میں بحث کرتے ہوئے بڑے پیمانہ پر ہتھیاروں کے خطرہ کی حقیقت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ پر تائید صرف نظریاتی نہیں ہوسکتی ۔ ایک دیرینہ ہتھیاروں کے پھیلاؤ کے روابط میں کئی ہم عصر تبدیلیاں اپنی بنیاد رکھتی ہیں، جس پر دنیا نے دانستہ طور پر دیکھنے کو منتخب کیا ہے۔ دہشت گردی کی طرح نیوکلیر ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو مرحلہ واری انداز میں مؤثر سے دور نہیں کیا جاسکتا۔ مکمل افشاء اور بڑی جوابدہی ضروری ہے۔

About Sub Editor