امریکا کا پاکستان سے طالبان رہنماؤں کو گرفتار یا ملک بدر کرنے کا مطالبہ

کابل کے انٹر کانٹی نینٹل ہوٹل پر طالبان کے حملے کے بعد امریکا نے ایک مرتبہ پھر پاکستان سے شدت پسندوں اور ان کے رہنماؤں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کردیا۔

افغانستان کے دارالحکومت میں ہفتے کو دہشت گردوں نے انٹر کانٹی نینٹل ہوٹل پر دھاوا بول دیا تھا اور افغان سیکیورٹی فورسز کو ہوٹل کی عمارت پر قبضہ کرنے والے دہشت گردوں کو مارنے میں 12 گھنٹے تک جدوجہد کرنا پڑی تھی۔

پاکستان نے اس دہشت گرد حملے کی سختی سے مذمت کرتے ہوئے اس کے نتیجے میں ضائع ہونے والی قیمتی انسانی جانوں پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا تھا اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کی ضرورت پر زور دیا تھا۔

اس معاملے پر افغانستان کے چند حلقوں نے حسب عادت ایک مرتبہ پھر پاکستان کو حملے کا ذمے دار قرار دینے کی کوشش کی لیکن دفتر خارجہ کے ترجمان محمد فیصل نے اسے یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان حملے کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کرتا ہے۔

تاہم اس حملے کے بعد امریکا نے دہشت گردی کے خلاف پاکستانی اقدامات پر ایک مرتبہ پھر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان سے مزید اقدامات کا مطالبہ کردیا۔

امریکی صدر کی ترجمان سارہ سینڈرز نے پیر کو پریس بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ شہریوں پر حملے سے امریکا کا اپنے اتحادی افغانستان کے ساتھ کام کرنے کا عزم مزید پختہ ہو گا۔

انہوں نے حملے کے وقت افغان فورسز کے اقدامات کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ہماری مدد سے افغان فورسز دہشت گردوں کے خلاف تعاقب کا عمل جاری رکھیں گے جو دنیا کے دیگر ملکوں میں دہشت گردی پھیلانا چاہتے ہیں۔

About Sub Editor